Praise be to Allah


ازل سے ملتا ہے مجھ کو ذوق  لطف ربانی مرا دل بن گیا ہے مرکز انوار یزدانی
اسی نے نور بخشا ہے نگاہوں کو بصیرت کا جلاتا ہے وہی انساں کے دل میں شمع ایمانی
وہ دیتاہے دل کو آرزو فقر رسالت کی سکھائے ہیں اسی نے ہم کوانداز جہاں بانی
وہی کرتاہے روشن لطف سے تاریک سینوں کو نظر کو بخش دیتاہے کرم سے نور عرفانی
شعورذات کی دولت عطا کرتاہے انساں کو اسی کے در پہ جھکتی ہے شہنشاہوں کی پیشانی
اسی کی جلوہ فرمائی نظر کو خیر ہ کرتی ہے اسی کے حسن نے بخشا ہ دل کو سوز  پنہانی
سوارقلب میں ہوتاہے روشن نور کا جلوہ شعور ذات سے اس کی خردہےمحوحیرانی
اسی کا نور جلوہ گر ہوا اقصائے عالم میں اسی کے نور سے ملتی ہے تاروں کودرخشانی
میرے اشعار ہیں اسرار آئینہ  صداقت کا
میں وجدان تقدس سے ہی کرتا ہوں ثنا خوانی





حمد باری تعالیٰ





ڈوبتے دل کا تموج میں سہارا تو ہےمری سوچوں کے سمندر کا کنارا تو ہےمیں تو بیتاب ہوں گرداب میں قطرے کی طرحراحتِ روح کی سمتوں کا اشارہ تو ہےتیرے الطافِ مسلسل سے ہوں زندہ یا ربمیں ہوں بیمار مرے درد کا چارا تو ہےکوئی بھی آنکھ نہیں جس نے کہ دیکھا ہو تجھےپھر بھی حیرت ہے کہ ہر آنکھ کا تارا تو ہےدیدہ و دل کا مکاں تیری ضیا سے روشنحسنِ احساس ہے تو جان نظارا تو ہےتو جو چاہے تو سرابوں سے بھی چشمے پھوٹیںظلمتِ یاس میں امید کا تارا تو ہےکوئی زرد ہو یا راسخ بے مایہ ہوسب پہ ہے تیرا کرم سب کا سہارا تو ہے





ترے جلووں کی اصلا کیف سامانی نہیں جاتی
دل پر شوق کی بیتاب حیرانی نہیں جاتی
نگاہوں میں سماتے بھی نہیں لیکن یہ عالم ہے
نگاہِ ناز کی دل پر نگہبانی نہیں جاتی
تجلی حسن کی نیرنگیاں کیا کیا دکھاتی ہیں
ہجومِ شوق کی دل پر ستم رانی نہیں جاتی
نگاہیں فرشِ رہ رکھتا ہے ہر دم شوق بیجا کے
دلِ ناداں کی ہرگز کفر سامانی نہیں جاتی
مچلتا ہے الجھنے کے لیے پیچاکِ الفت میں
تیرے صدقے میں اس کی پاک دامانی نہیں جاتی
گریباں چاک کر لیتا ہوں شوقِ دید میں لیکن
وہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
جلا کر خاک کر ڈالے حجابات نظر اس نے
دلِ آتش بجاں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی
نمودِ حُسن ہی بے تاب رہتی ہے مچلنے کو
کمالِ پردہ داری میں بھی عریانی نہیں جاتی
الجھ کر رہ گئیں اسرار نظریں ان کے جلووں میں
کسی ناصح کی ہم سے بات اب مانی نہیں جاتی





وہ فرمائیں گے رحمت کی نظر آہستہ آہستہ
بنے گا غم ہمارا معتبر آہستہ آہستہ!
کبھی تو ہو ہی جائے گی صدائے غم کی شنوائی
جواب آئے گا نالوں کا مگر آہستہ آہستہ
حجابات نظر اٹھ جائیں گے روئے حقیقت سے
ابھر کر آئے گا نورسحر آہستہ آہستہ
دلوں میں روشنی پھیلے گی ان کے روئے تاباں کی
شب دیجور غم ہوگی بسر آہستہ آہستہ
پہنچتا ہے بہت مشکل سے راہی اپنی منزل پر
سفر رہتا ہے جاری عمر بھر آہستہ آہستہ
اگر ہوجذبہ صادق تو پھر مشکل نہیں کچھ بھی
مگر ہوتا ہے اس کابھی اثر آہستہ آہستہ
دل شوریدہ سر سے آرہی ہے یہ صدا پیم کہ
سر ہوں گے مقامات نظر آہستہ آہستہ
نہ ہومایوس تم اسرار اُس کی دل نوازی سے
دعاؤں میں اثر ہوگا مگر آہستہ آہستہ





خدارا





ہر لحظ ہیں جو ڈھونڈتے غیروں کا سہارا
فطرت کو بھلا کیوں ہو وجود اُن کاگوارہ
جومحو تماشالب ساحل ہیں ازل سے
جانیں وہ کیا غواصی دریا کا نظارا
اک ذات نے فوراً مری فر یاد رسی کی
جس دم بھی اسے رنج و مصیبت میں پکارا
مٹ جا ؤ گےبد عہدی پہیم کی سزا میں
غافل نہ رہو ہوش میں آجاؤ خدارا
ہے ارض وطن بطش مفاجات کی زد میں
دیتا ہے خبر بر ملا حالات کا دھارا
اس قصر سلطانی سے ہو کیا دین کی خدمت ؟
برطانوی ہے اینٹ تو ہے روس کا گارا
ہے ورد زبان کعبہ و رخ جانب لندن
ہیں کا م تو شیطان کے پر نام ہے پیارا
بیماری دل کی آنکھ دکھانے کے بہانے
تحزیب وطن کے لیے یورپ کو سدھا را





راہ عدم میں نور افشاں ہو لاالہٰ الا اللہ





لحظہ لحظہ راحت جاں ہو لا الٰہ الا اللہ
قلب کے ہر گوشے میں نہاں ہو لا الٰہ الا اللہ
جسم کے ٹکڑے سے عیاں ہو لا الٰہ الا اللہ
اے میرے آقا میں جسدم جام شہادت پی جاؤں
خون کے ہر قطے کی زبان ہو لا الٰہ الا اللہ
لا الٰہ الا اللہ پر روح وبدنی تک مٹ جائیں
روح بدن تک بھی گراں ہو لا الٰہ الا اللہ
جن وانسان حور وملائک ذرہ ذرہ جھوم اُٹھے
جس جا اور جس وقت بیاں ہو لا الٰہ الا اللہ
سب ذکروں میں ذکر مکرم سب وردوں میں ورد عظیم
کیوں نہ بھلا پھر وجہ اماں ہو لا الٰہ الا اللہ
پھرشوق تعمیر مکاں بھی رحمت یزداں کا ہے نشاں
گروجہ تعمیر مکاں ہو لا الٰہ الا اللہ
لا الٰہ الا اللہ ہر شخص کا نعرہ بن جائے
راہ عدم میں نور افشاں ہو لا الٰہ الا اللہ
مشرک کے ایک ایک قدم پر شرک کے نقش اُبھرتے ہیں
مومن کے ایماں کا نشاں ہو لا الٰہ الا اللہ
لب سے لگالوں ،پلکوں پہ رکھ لوں،سرپر اٹھا لوں فرحت سے
ہر وہ شے تحریر جہاں ہو لا الٰہ الا اللہ
شرک کی ظلمت چھٹ جائے اور دہر سے بدعت مٹ جائے
مثل مہ انجم تاباں ہو، لا الٰہ الا اللہ
میرے مولا میرے آقا عاجز عاصی کی ہے دعا
ساعت آ خر لب پہ رواں ہو لا الٰہ الا اللہ


Post a comment

My Instagram

Copyright © SMMPak Darussalam Ahle Hadith. Made with by Seo Basic Knowledge
close