dajjal qayamat ki nishaniya or Allah ki rehmat



dajjal qayamat ki nishaniya or Allah ki rehmat




قیامت کے دن لوگوں کو کیا اُن کی ماؤں کے نام سے بلایا جائے گا؟

بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے نام کے ساتھ ان کے آباء کا نام لیا جائے گا یا اُن کی ماؤں کا؟... اس بارے میں بکثرت سوالات کے پیش نظر قدرے تفصیل حاضر خدمت ہے۔

درست موقف

درست یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو اُن کے باپوں ہی کے نام سے بلایا جائے گا، ماؤں کے نام سے نہیں جیسا کہ عام لوگوں میں مشہور ہے۔محدثین﷭ کا یہی موقف ہےجیسا کہ امام بخاری﷫ نے کتاب الادب میں ایک باب یوں قائم کیا ہے: باب ما یدعٰی الناس بآبائهم یعنی ''یہ بیان کہ لوگوں کو ان کے آباکے ناموں سے بلایا جائے گا۔'' اس باب کے تحت وہ عبد اللہ بن عمر ؓ کی درج ذیل حدیث لائے ہیں:

«إن الغادر ینصب له لواء یوم القیامة، فیقال: هٰذه غدرة فلان بن فلان ...»1
"خائن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے۔''

ابن بطال اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

"رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان: «هذه غدرة فلان بن فلان» میں ان کا ردّ ہے جن کا خیال ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے بلایا جائے گا کیوں کہ اس صورت میں اُن کے باپوں کا پتہ نہیں چلے گا جبکہ حدیث مذکور اُن کے اس قول کے خلاف ہے۔"2

علاوہ ازیں دیگر محدثین اور شارحین حدیث نے بھی اس بات کا رد کیا ہے کہ روز قیامت لوگوں کے نام کے ساتھ ان کی ماں کا نام آئے گا۔ اس بارے میں ایک صریح حدیث بھی ہے مگر وہ اسناد ی اعتبار سے ضعیف ہونے کی بنا پر قابل استدلال نہیں ہے۔وہ حدیث سيدنا ابو درداء سے بایں الفاظ مروی ہے:

«إنکم تدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فأحسنوا أسمائکم»3

"یقیناً تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے آباء کے نام سے بلائے جاؤگے، چنانچہ تم اپنے اچھے اچھے نام رکھو۔"

اسے امام ابوداؤد نے عبداللہ بن ابی زکریا از ابوالدرداء کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس کی سند ضعیف اس لیے ہے کہ ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا۔جیساکہ امام ابوداؤدنے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد صراحت کی ہے اورحافظ ابن حجرنے بھی فتح الباری (10؍577) میں اسی طرح کہا ہے اور حافظ منذری نے مختصر السنن (7؍571)میں کہا ہے کہ ان کا ابودرداء سے سماع نہیں ہے۔

دوسرا موقف اور ان کے دلائل

جن علمانے کہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کو اُس کی ماں کے ناموں سے بلایا جائے گا، باپ کے نام سے نہیں۔ ان کے درج ذیل دلائل ہیں:

1. پہلی دلیل: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ ارشاد :﴿ يَومَ نَدعوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمـٰمِهِم...٧١﴾... سورة الإسراء

" جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔"

محمد بن کعب نے بإمامهمکی تفسیر میں کہا ہے: قیل یعني بأمهاتهم کہا گیا ہے ''یعنی ان کی ماؤں کے ناموں سے۔'' ان کے اس قول کو امام بغوی اور امام قرطبی نے ذکر کیاہے اور کہا ہے کہ اس میں تین حکمتیں ہیں : عیسی کی وجہ سے ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے شرف کی بنا پر اور اولادِ زنا کی عدم رسوائی کی وجہ سے ۔4

مگرمحمد بن کعب کے اس قول کے بارے میں علامہ شنقیطی نے کہا ہے: قول باطل بلا شك، وقد ثبت في الصحیح من حدیث ابن عمر5

"یہ قول بلا شک وشبہ باطل ہے، حالانکہ صحیح بخاری میں ابن عمرؓ کی حدیث سے ثابت ہے ...۔"

اس کے بعد اُنہوں نے ابن عمرؓ کی مذکورہ حدیث کا ذکر کیا ہے۔

اسی طرح زمخشری نے بھی امام کی تفسیر "أمهات" سے کی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:

ومن بدع التفسیر أن الإمام جمع الأم، وإن الناس یدعون بأمهاتهم6

"انوکھی تفسیر وں میں سے ایک تفسیر یہ ہے کہ 'امام' اُمّ کی جمع ہے اورلوگوں کوقیامت کے دن ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا..."

زمخشری کی اس انوکھی تفسیر کا ردّ امام نا صرالدین احمد بن منیر مالکی نے ان الفاظ میں کیا ہے:

ولقد استبدع بدعا لفظا ومعنی، فإن جمع "الأم" المعروف الأمهات، إما رعایة عیسی (علیه السلام) بذکر أمهات الخلائق لیذکر بأمه فیستدعی أن خلق عیسی (علیه السلام ) من غیر أب غمیزة في منصبه، وذلك عکس الحقیقة، فإن خلقه من غیر أب کان له آیة، و شرفًا في حقه، والله أعلم7

"زمخشری نے لفظی اور معنوی بدعت کا سہارا لیا ہے،کیوں کہ اُمّ کی معروف جمع(امام نہیں بلکہ) 'امہات'ہے۔رہا عیسی کا خیال رکھتے ہوئے لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارنا تاکہ عیسی کی ماں کا ذکر کیا جائے تو امام زمخشری کا یہ کہنا اس بات کا متقاضی ہے کہ عیسی کی بغیر باپ کے پیدائش کے تذکرے سے ان کے منصب پر حرف آتا ہے، حالانکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے کیوں کہ ان کی بغیر باپ کے تخلیق ، ان کے لیے معجزہ اور عظیم شرف ہے ۔''

بعض دیگر علمانے بھی مذکورہ تمام حکمتوں کا ردّ کیا ہے اور بعض نے اس ردّ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔8

دوسری دلیل: بعض کمزور بلکہ ، سخت ضعیف قسم کی روایات ہیں جو درج ذیل ہیں :

1۔ حدیث انس جس کے الفاظ یہ ہیں:

یدعى الناس یوم القیامة بأمهاتهم سترا من الله عز وجل علیهم9

''روز قیامت اللہ کی طرف سے ستر پوشی کرتے ہوئے لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا۔''

اس حدیث کو ابن جوزینےالموضوعات10 میں روایت کیا ہے اور اس کو علامہ ذہبی نےمیزان الاعتدال 11میں ابن عدی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور اس میں بأمهاتهم کی بجائے "بأسماءأمهاتهم" ہے۔

مگر اس حدیث کی سند اسحاق بن ابراہیم کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔

علامہ سیوطی کا اس حدیث کی تقویت کی طرف رجحان ہے، چنانچہ انہوں نے اس حدیث پر ابن جوزی کا تعاقب کرتے ہوئے لکھا ہے :

"قلت:صرح ابن عدی بأن الحدیث منکر فلیس بموضوع ، وله شاهد من حدیث ابن عباس رضی الله عنه أخرجه الطبراني"12

" میں کہتا ہوں ابن عدی نے صراحت کی ہے کہ یہ حدیث منکر ہے ۔چنانچہ یہ موضوع نہیں اور ابن عباس ؓ کی حدیث سے اس کی ایک مؤید روایت ہے جسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔"میں کہتا ہوں : اس حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں :

"إن الله تعالى یدعو الناس یوم القیامة باسمائهم سترا منه على عباده"13

''یقینا اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو ان پر پردہ پوشی کی خاطر ان کے ناموں سے بلائے گا۔"

مگر یہ حدیث درج ذیل دو وجوہ کی بنا پر شاہد بننے کے قابل نہیں :

الف: اس میں لوگوں کو ان کے ناموں سے بلائے جانے کا ذکر ہے ماؤں کے ناموں سے بلائے جانے کا ذکر نہیں ۔

ب:اس کی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے۔ کیوں کہ اس کی سند میں اسحاق بن بشیرابوحذیفہ ہے جو متروک بلکہ کذاب ہے۔ علامہ البانی نے اس کو الضعیفہ (434) میں موضوع کہا ہے ۔

تنبیہ : حافظ ابن حجر نے ابن بطال کا یہ قول:

في هذا الحدیث رد لقول من زعم انهم لا یدعون یوم القیامة إلا بأمهاتهم سترا على آبائهم14

"اس حدیث (ابن عمر کی جھنڈا نصب کرنے والی مذکورہ حدیث) میں ان لوگوں کے قول کا رد ہے جن کا خیال ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے بلایا جائے گا کیوں کہ اس میں ان کے باپوں پر پردہ پوشی کی گئی ہے۔" ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:

"قلت: هو حدیث أخرجه الطبراني من حدیث ابن عباس وسنده ضعیف جدا ، وأخرج ابن عدي من حدیث أنس مثله، وقال: منکر أورده في ترجمة إسحاق بن إبراهیم الطبری"15

"میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کو طبرانی نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے اور اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ ابن عدی نے اس جیسی حدیث انسؓ سے بھی روایت کی ہے اور اسے منکر کہا ہے۔ انہوں نے اس کو اسحاق بن ابراہیم طالقانی طبری کے ترجمے میں روایت کیا ہے۔ "

میں کہتا ہوں:حدیث ابن عباسؓ میں "بأسمائهم" ہے "بأمهاتهم" نہیں۔ اسی طرح حافظ ابن حجر کا "حدیث أنس مثله"کہنا بھی درست نہیں کیوں کہ اس حدیث میں "بأمهاتهم" ہے۔

یہی وہم علامہ ابوالطیب عظیم آبادی سے بھی ہواہے کہ انہوں نے حدیث ابن عبا سؓ کو لفظ "بأمهاتهم" سے ذکر کیا ہے،نیز ان سے ایک لغزش یہ بھی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ حدیث ابن عباسؓ کو طبرانی نے بسند ضعیف روایت کیا ہے جیسا کہ ابن قیم نے حاشیۃ السنن میں کہا ہے جبکہ ابن قیم نے حدیث ابن عباسؓ کا ذکر تک نہیں کیا بلکہ انہوں نے حدیث ابوامامہؓ کا ذکر کیاہے جو عنقریب آرہی ہے۔16

2۔ حدیث ابن عباس ؓ: اس حدیث کا ابھی حدیث انسؓ کے ضمن میں ذکر ہوچکا ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ دو وجوہ کی بنا پر اس حدیث سے دلیل لینا درست نہیں ۔

3۔ حدیث ابو امامہ ؓ: یہ ایک طویل حدیث ہے جس میں میت کو دفن کر دینے کے بعد اسے تلقین کرنے کا ذکر ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

إذا مات أحدکم من إخوانکم فسویتم التراب على قبره فلیقم أحدکم على رأس قبره ثم لیقل: یا فلان بن فلانة، فإنه یسمعه، ولا یجیب ثم یقول: یا فلان بن فلانة ... وفي آخره. فقال رجل: یا رسول الله فإن لم یعرف أمه قال: فینسبه إلى حواء، یا فلان بن حواء17

" جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی مرجائے اور تم اس کی قبر پر مٹی کو برابر کرلو تو تم میں سے کوئی ایک اس کی قبر کے سر پر کھڑا ہو ، پھر کہے : اے فلاں ! فلاں عورت کے بیٹے ،سویقینا وہ اس کی بات کو سنتا ہے لیکن جواب نہیں دے پاتا۔پھر کہے: اے فلاں!فلاں عورت کے بیٹے،، (اور اس حدیث کے آخر میں ہے) ایک آدمی نے سوال کیا ! یا رسول اللہ ! اگر وہ اس کی ماں کو نہ جانتا ہو؟ فرمایا : وہ اس کو حواءکی طرف منسوب کرے اور کہے: اے فلاں حواءکے بیٹے " مگر اس حدیث کو بطور حجت لینا درست نہیں کیوں کہ یہ سخت ضعیف ہے۔(طبرانی نے سعیدبن عبد اللہ الاودی کی سند سے ابو امامہؓ سے روایت کیا ہے اور حافظ ہیثمی نے کہا ہے:

"وفي اسناده جماعة لم اعرفه" 18اس کی سند میں کتنے ہی ایسے راوی ہیں جنہیں مَیں پہچان نہیں سکا۔ یعنی ان کو ان کے تراجم نہیں ملے۔

امام ابن القیم نے اس حدیث کو اس لیے بھی رد کیا ہے کہ صحیح احادیث کے خلاف ہے چنانچہ لکھتے ہیں:

"ولکن هذا الحدیث متفق على ضعفه، فلا تقوم به حجة فضلا عن أن یعارض به ما هو أصح منه"19

'' لیکن اس حدیث کے ضعف پر اتفاق ہے، لہذا اس سے حجت قائم نہیں ہوسکتی چہ جائیکہ اس کو صحیح حدیث کے مقابلے میں لایا جائے۔''

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کا عثمان بن عفان ؓ کی حدیث سے بھی رد ہوتا ہے۔ جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو فرماتے :

"استغفرو ا لأخیکم وسلوا له التثبیت ، فإنه الآن یسأل"20

" اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کرو کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا۔"

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس موقع پر میت کے لیے استغفار اور ثابت قدمی کا سوال کیا جائے گا نہ کہ اس کو تلقین کی جائے گی۔ ابن علان نے اس حدیث کو حدیث ابی امامہ کے شواہد میں ذکر کیا ہے۔21

اور کس قدر عجیب بات ہے کیوں کہ استغفار ،ثابت قدمی کی دعا اور تلقین میں بہت فرق ہے اور صحیح احادیث سے جو تلقین ثابت ہے وہ قریب الموت آدمی کے بارے میں ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لقنوا موتاکم لا إله إلا الله»22

" اپنے مردوں کو( قریب المرگ لوگوں کو) لا إله إلا الله کی تلقین کرو۔''

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی قابل اعتماد حدیث ایسی نہیں ہے کہ جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ روز قیامت آدمی کو اس کی ماں کے نام سے بلایا جائے گا بلکہ عبد اللہ بن عمر ؓ کی مذکورہ صحیح حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آدمی کو اس کے باپ کے نام سے بلایا جائے گا۔جبکہ آیت مبارکہ سے استدلال کی حقیقت اور لفظ 'امام' کی بحث آپ پڑھ آئے ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر 'امام' کی تفسیر 'ماؤں' سے نہ کریں تو اس کی اصل تفسیر ہے کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ

روایات میں تطبیق کی کوشش

بعض علمانے مذکورہ روایات میں تطبیق دینے کی کوشش کی ہے وہ یوں کہ جس حدیث میں باپ کے نام سے بلائے جانے کا ذکر ہے وہ صحیح النسب آدمی کے بارے میں ہوا اور جس میں ماں کے نام سے بلائے جانے کا ذکر ہے وہ دوسرے آدمی کے بارے میں ہے۔ یا یہ کہ کچھ لوگوں کو ان کے باپ کے نام سے اور کچھ لوگوں کو ان کی ماں کے نام سے بلایا جائے گا۔ اس جمع یا تطبیق کو عظیم آبادی نے علقمی سے نقل کیاہے۔23

بعض نے ایک دوسرے طریقے سے تطبیق دی ہے ،وہ یہ کہ خائن کو اس کے باپ کے نام سے اور غیر خائن کو اس کی ماں کے نام سے بلایا جائے گا اور اس کی جمع کو ابن علان نے شیخ زکریا سے نقل کیا ہے۔24 بعض نے حدیث ابن عمرؓ کو اس پر محمول کیا ہے کہ یہ اس آدمی کے بارے میں ہے، جو ولد الزنا نہ ہو یا لعان سے اس کی نفی نہ کی گئی ہو۔25 مگر یہ سب تکلفات ہیں کیوں کہ جمع اور تطبیق کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب دونوں طرف کی روایات صحیح ہوں جب کہ حدیث ابن عمر کے خلاف جو روایات ہیں وہ انتہائی ضعیف قسم کی ہیں۔ نیز اصل یہ ہے کہ آدمی کو اس کے باپ ہی کے نام سے پکارا جائے گا۔ ابن بطال لکھتے ہیں:

والدعاء بالآباء أشد في التعریف وأبلغ في التمیز وبذلك نطق القرآن و السنة26

"باپوں کے نام سے بلانا پہچان میں زیادہ واضح اور ممتاز کرنے میں زیادہ بلیغ ہے اور قرآن و سنت بھی اسی پر شاہد ہے۔ "

حوالہ جات

1. شرح البخاری لابن بطال : 9؍354و ایضا؛ فتح الباری: 10؍563
2. اس حدیث کو امام احمد :5؍194؛ ابوداؤد:4948؛ابن حبان:7؍528؛بغوی شرح السنہ: 12؍32
3. معالم التنزیل للبغوی: 5؍ 110؛ الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:5؍628
4. اضواءالبیان لمحمد الامین الشنقیطی:2؍322
5. تفسیر الکشاف: 2؍369
6. الانتصاب فیما تضمنہ الکشاف من الاعتزال: 2/369 بھامش الکشاف
7. تفسیر روح المعانی للآلوسی: 15؍121
8. ابن عدی: 1؍336
9. الموضوعات:3؍248
10. میزان الاعتدال :1؍177
11. ؟؟؟
12. طبرانی نے المعجم الکبیر:11؍122میں روایت کیا ہے۔
13. فتح الباری:10؍563؛ شرح البخاری لابن بطال : 9؍354
14.فتح الباری : 10؍563
15. عون المعبود:8؍283 اور تہذیب السنن: 7؍250
16. طبرانی نے المعجم الکبیر:8؍298،حدیث نمبر: 8989) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند سخت ضعیف ہے بلکہ موضوع ہے۔
17. مجمع الزوائد:3؍48
18. تہذیب السنن: 7؍250
19. ابوداؤد: 3221 الحاکم: 1؍ 370 اس کی سند حسن درجے کی ہے اور امام حاکم نے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے
20. الفتوحات الربانیہ : 4؍196
21. صحیح مسلم: 6؍219 ۔ 230
22. تفسیرابن کثیر :5؍127 ؛ اضواءالبیان: 2؍322
23. تفسیرابن کثیر :5؍126
24. عون المعبود: 8؍283
25. الفتوحات الربانیہ : 6؍104
26. الفتوحات الربانیہ : 6؍104
27. شرح البخاری لابن بطال : 9؍354

روزِمحشر اللہ کی نظرِ رحمت سے محروم ’بدنصیب

بھلائی کاکوئی کام ایسا نہیں جس کی طرف شریعت ِمطہرہ نے ہماری رہنمائی نہ کی اور ہمیں اس کی رغبت نہ دلائی ہو۔ اوربرائی کا کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جس سے شریعت نے ہمیں ڈرایااور اس سے منع نہ کیا ہو۔ شریعت نے خیر وشر ہردو پر عمل کرنے والے شخص کا انجام بالکل واضح کردیا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص جو بھیانک انجام سے ڈرنے والا ہو، اسے چاہئے کہ وہ ان چیزوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے جو اس کی عاقبت کو تباہ وبرباد کرنے والی ہیں اور وہ ان ہلاکت خیز چیزوں سے اپنے آپ کو بچانے کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال،عزیزو اقارب کو بھی ان کے ارتکاب سے بچائے۔

مسلمانوں میں بے شمار ایسے واقعات موجود ہیں کہ ارتکابِ معاصی کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان پر مختلف قسم کی تکلیفیں اور عذاب آتے رہے جس کی وجہ دراصل اللہ کا غضب، اس کی نافرمانی اور بدترین گناہوں کا ارتکاب تھا۔ ان مختلف گناہوں کا بدترین نتیجہ یہ بھی ہے کہ قیامت والے دن میدانِ حشر میں ایسے لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کی کلام اور نظررحمت کے مستحق ہوں گے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں کی نجاست سے پاک کریں گے بلکہ ان کو سخت عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔

اے اہل عقل ودانش!جب اللہ کی طرف سے بعض عظیم گناہوں پر سنگین عذاب کی وعید آچکی ہے تو ہمیں چاہئے کہ ان کو غور سے سنیں ، ان کو سمجھیں اورایسے گناہوں کے ارتکاب سے بچنے کی ہرممکن کوشش کریں ۔تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کرنا واجب ہے اور توبہ کے بعداپنے آپ کو،اپنے اہل وعیال اور بھائیوں کو بھی کبائر کے ارتکاب سے بچانے اور توبہ کی طرف متوجہ کرنے کی پوری پوری کوشش کرنا ضروری ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواقُوٓا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارً‌ا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَ‌ةُ عَلَيْهَا مَلَـٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَ‌هُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُ‌ونَ ﴿٦﴾...سورة التحریم
''ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔جس پر سخت اورمضبوط دل فرشتے مقرر ہیں ؛ جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم کیا جائے، بجا لاتے ہیں ۔''

مسلمان بھائیو!آپ پر لازم ہے کہ ان گناہوں کی تفصیل کو غور سے دیکھ لو جن کا ارتکاب کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ وعید سنائی ہے کہ
وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ‌ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٧٧﴾...سورة آل عمران
''اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ تو کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا، نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔''

قرآن وحدیث میں مذکور ایسے گناہ حسب ِذیل ہیں :

احکامِ الٰہی کو چھپانا اور تھوڑی قیمت پر بیچ دینا
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:



إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَيَشْتَرُ‌ونَ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَـٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ إِلَّا ٱلنَّارَ‌ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٧٤﴾...سورة البقرة
''بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی اُتاری ہوئی کتاب کے احکام چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں ،یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں ۔قیامت کے دن اللہ ان سے بات بھی نہیں کرے گا،نہ اُنہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ''

جیسا کہ علماے یہود کا یہ طریقہ تھا کہ اُنہوں نے تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ صفات کولوگوں سے چھپایا۔ امام قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''اگرچہ یہ آیت علمائے یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے حق کو چھپاتے ہیں ۔ ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکامات اور ہدایت کو چھپاتا ہے، اس کو ملعون قرار دیا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّـٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَـٰبِ ۙ أُولَـٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّـٰعِنُونَ ﴿١٥٩﴾...سورة البقرة
''جو لوگ ہماری اُتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں ، ان پر اللہ اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ ''

اسی طرح امام قرطبی رحمة اللہ علیہ (وَلَا تَشْتَرُ‌وا بِـَٔايَـٰتِى ثَمَنًا قَلِيلًا...﴿٤١﴾...سورة البقرة) کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
''اگرچہ یہ آیت بنی اسرائیل کے ساتھ خاص ہے، لیکن اس حکم میں ہر وہ شخص شامل ہوگا جو بنی اسرائیل کا سا فعل سرانجام دے گا۔ جو کوئی حق کو بدلنے یا باطل کے لئے رشوت لیتا ہے یا جو کسی کو ضروری تعلیم (جس کو سیکھنا ہرمسلمان پر واجب ہے) حاصل کرنے سے روکتا ہے، یا جو اس نے سیکھا ہے، اس کوبیان نہیں کرتاحالانکہ اس کواس بات کا شریعت نے حکم دیا ہے، لیکن وہ اس پر اُجرت لے کر خاموش رہتا ہے تو وہ بھی اس آیت کے حکم میں شامل ہوگا۔ ''واللہ أعلم

سنن ابو داؤد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من تَعلَّم علما مما یتبغي به وجه اﷲ عزَّ وجلَّ لا یتعلمه إلا لیصیب به عرضا من الدنیا لم یجد عرف الجنة یوم القیامة) 1
''ایسا علم جس کے حصول میں اللہ کی رضا مقصود ہونی چاہئے، وہ اس علم کو حصولِ دنیا کا ذریعہ بنا لیتاہے تو قیامت والے دن وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔''

مزید برآں حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں :
''اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت {نَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ...﴿١٥٩﴾...سورة البقرة} نہ ہوتی تو میں کبھی بھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔''2


اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچنا
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :


إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُ‌ونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَـٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَـٰٓئِكَ لَا خَلَـٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ‌ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٧٧﴾...سورة آل عمران
''بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات کرے گا،نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا،نہ اُنہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ''

حافظ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے نبیؐ کی اتباع کے عہد کے بدلے میں اور نبیؐ کی صفات اور اس کے حکم کو بیان کرنے کے بدلے میں تھوڑی قیمت لے لیتے ہیں اور اپنی جھوٹی اور گناہ پر مبنی قسموں کے بدلے میں اس دنیاے فانی کے مفادات حاصل کرتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ {أُولَـٰٓئِكَ لَا خَلَـٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ‌ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ...﴿٧٧﴾...سورة آل عمران} ''یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزِقیامت اللہ کے ہاں کوئی اجروثواب نہیں ہوگا اور قیامت والے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا۔'' یعنی نہ تو اللہ تعالیٰ نرم لہجے میں ان سے بات کریں گے اور نہ ہی نظر رحمت سے ان کی طرف دیکھیں گے۔ {وَلَا يُزَكِّيهِمْ} اور نہ ہی ان کو گناہوں اور نجاستوں سے پاک کریں گے بلکہ ان کے بارے میں جہنم کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔''

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ اس فانی دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لئے اللہ کی جھوٹی قسمیں اُٹھائے۔ایسی قسموں کو علما نے الیمین الغموس(ڈبو دینے والی قسم) کا نام دیا ہے۔

اسکی وضاحت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جو شخص جھوٹی قسم اُٹھاتا ہے اورقسم کے ذریعے وہ اپنے مسلمان بھائی کا مال حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا (اللہ اس سے ناراض ہوگا)۔''3

اشعث بن قیسؓ فرماتے ہیں :
''اللہ کی قسم یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کے معاملے میں جھگڑا ہوگیا اور میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا کہ کیا تیرے پاس کوئی گواہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں ۔ آپؐ نے یہودی سے کہا : (احلف!) تو قسم اُٹھا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر وہ قسم اُٹھائے گا تو میرا مال لے جائے گا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: { إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُ‌ونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَـٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا...﴿٧٧﴾...سورة آل عمران} 4

ایسی قسم کو یمین الغموس (ڈبو دینے والی؍جھوٹی قسم) کہتے ہیں ،کیونکہ یہ قسم اپنے اُٹھانے والے کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اوراس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔
المُسبِل (ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا)
المُنفِق سلعتَه بالحلف الکاذب (جھوٹی قسمیں کھاکر سامان بیچنے والا)
المَنَّان (احسان جتلانے والا)

حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ثلاثة لا یکلِّمھم اﷲ ولا ینظر إلیھم یوم القیامة ولا یزکیھم ولھم عذاب ألیم) قلت: یارسول اﷲﷺ! من هم؟خابوا وخسروا۔قال: وأعادہ رسول اﷲ ﷺ ثلاث مرات،قال: (المسبل والمنفق سلعته بالحلف الکاذب والمنان) 5
''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ تو(نرم لہجے میں ) کلام کریں گے، نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھیں گے اور نہ ہی ان کو (گناہوں ) سے پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے بدبخت اور خسارہ اُٹھانے والے کون ہیں ؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین بار دہرایا۔ پھر فرمایا:اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا،جھوٹی قسم اُٹھا کر سامان بیچنے والا اور احسان جتلانے والا۔''

المُسبل:کپڑا لٹکانے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے اِزار بند یا کپڑے کو اس قدر لٹکائے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے چلا جائے۔ اگر وہ کپڑا ٹخنوں سے نیچے غرور اور تکبر کی وجہ سے کرتا ہے تو اس پر اللہ کی رحمت سے دوری کی وعید لازم آتی ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لا ینظر اﷲ یوم القیامة إلی من جرَّ إزارہ بطرًا) 6
''جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا اِزار بند ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے، توقیامت کے دن اللہ اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔''

اور جس شخص کا ازار بند یا کپڑا بلا قصد اور بغیر غرور وتکبر کے ٹخنوں سے نیچے ہوجائے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(أسفل من الکعبین من الإزار في النار)7
''جو کپڑا بھی ٹخنوں سے نیچے ہوگا، وہ جہنم میں جائے گا۔''

ان دونوں روایات میں تطبیق وموافقت کی جو صورت نکلتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر قصداً اور غرور و تکبر کی وجہ سے ہو تونظر رحمت سے نہ دیکھنے والی وعید اس کے لئے ہے اور اگر بلا قصد اور غروروتکبر سے ہٹ کر ہو تو بعد والی وعیداس کے لیے ہے۔

البتہ عورتوں کے لئے بالاجماع یہی مشروع ہے کہ وہ پردے کی غرض سے اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکا ئیں ۔ جیسا کہ حضرت اُمّ سلمہؓ نے جب اس کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت کو سنا توکہنے لگیں : فکیف تصنع النساء بذیولیهن؟ عورتیں اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ کیا کریں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ایک بالشت کپڑا لٹکا لیں ۔ اُم سلمہؓ فرمانے لگیں کہ اگر پھر بھی عورتوں کے قدم نظر آتے ہوں تو؟ فرمایا:(فیرخینه ذراعا لا یزدن علیه) ایک ہاتھ لمبا کپڑا لٹکالیں ، لیکن اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔8

جھوٹی قسم اُٹھاکر اپنا سامان بیچنا :اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کو حقیر جانتے ہوئے جھوٹی قسمیں اُٹھا کر اپنا سامان لوگوں کوبیچتا ہے اور اللہ کے نام کی قسمیں اٹھا کراللہ کی عظمت کا انکار کرنے کی جرات کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں :
''بازارمیں ایک شخص نے سامانِ تجارت رکھا اور اللہ کی قسم اُٹھائی اور کہنے لگا کہ جو سامان میرے پاس ہے، ایسا کسی کے پاس نہیں ،تاکہ وہ کسی مسلمان آدمی کو پھنسا سکے،تو یہ آیت نازل ہوئی {إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُ‌ونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَـٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا...﴿٧٧﴾...سورة آل عمران}9

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ثلاثة لایکلمھم اﷲ ولا ینظر إلیھم یوم القیامة ولایزکیھم ولھم عذاب ألیم... ثم قال ورجل بایع رجلا بسلعته بعد العصر،فحلف باﷲ لأخذها بکذاوکذا،فصدقه فأخذهاوهو علی غیر ذلك)10
''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت والے دن کلام نہیں کرے گا،نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا...فرمایا:ان میں سے ایک وہ ہے جو عصر کے بعد تجارت کرتا ہے اور اللہ کی قسمیں اُٹھاتا ہے تاکہ خریدارکسی بھی طریقے سے اس سے سامان خریدلے۔خریدار اس کی باتوں کو سچ مان کر اس سے سامان خرید لیتا ہے حالانکہ وہ (بیچنے والااپنی قسم میں )جھوٹا ہے۔''

عصر کے بعد کے وقت کو خصوصی طور پرا س لئے بیان کیا گیا ہے، کیونکہ یہ بڑا اہم اور شرف والا وقت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ، دن اور رات کی ڈیوٹیوں پر مامور ہونے والے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے وغیرہ۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت لڑائی کرنا اور قسمیں اُٹھانا عرب تجار کی عادت بن چکی تھی۔

منَّان :اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی کو کچھ دینے کے بعد احسان جتلاتا ہے۔ امام قرطبی رحمة اللہ علیہ نے احسان جتلانے کی تعریف یوں کی ہے:
ذکر النعمة علی معنی التعدید لها والتقریع بها، مثل أن یقول: قد أحسنت إلیك11
''کسی کو جتلانے اور دھمکانے کے لیے اس پر کیے ہوئے احسان کا تذکرہ کرنا۔مثلاً یہ کہنا کہ میں نے (تیرے ساتھ فلاں نیکی کی ہے) تجھ پر فلاں احسان کیا ہے ،وغیرہ۔''

بعض لوگوں نے 'احسان'کی تعریف یوں بھی کی ہے:
التحدث بما أعطٰی حتی یبلغ ذلك المُعطٰی فیؤذیه
''کسی کو دی گئی چیز کا تذکرہ اسطرح کرنا کہ اس کو جب یہ بات پہنچے تو اس کیلئے تکلیف دہ ہو۔''

احسان جتلانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے جیسا کہ حضرت ابی امامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لا یدخل الجنة عاق ولامنان ولامکذب بالقدر) 12
''اللہ تعالیٰ ان بندوں کو جنت میں داخل نہیں کریں گے: والدین کا نافرمان احسان جتلانے والا اور تقدیر کا انکار کرنے والا۔''

احسان جتلانا ایک بُری صفت ہے اوربندے میں اس صفت کے پیدا ہونے کی غالب وجہ بخل، تکبر، خوش فہمی اور اللہ تعالیٰ کے کئے ہوئے احسانات کو بھول جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو واضح فرما دیا ہے کہ ریاکاری کی طرح احسان جتلانا اور تکلیف پہنچانا بھی صدقے کو باطل کردیتا ہے۔ارشادِباری تعالیٰ ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَـٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ...﴿٢٦٤﴾...سورة البقرة
''اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلاکر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔''

من منع ابن السبیل فضل الماء (مسافر کو زائدپانی کے استعمال سے روکنا)
من بایع إماما لأجل الدنیا (دُنیوی مقاصد کی خاطر امام کی بیعت کرنا)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا یکلمھم اﷲ یوم القیامة ولا ینظر إلیھم ولایزکیھم ولھم عذاب ألیم: رجل علی فضل ماء بالفلاة یمنعه من ابن السبیل،ورجل بایع رجلا بسلعته بعد العصر فحلف له باﷲ لأخذها بکذا وکذا،فصدقه وهو علی غیرذلك،ورجل بایع إماما لا یبایعه إلا للدنیا،فإن أعطاہ منها وفیٰ،وإن لم یعطه منها لم یف 13
''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ (نرم لہجے میں ) کلام کریں گے، نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھیں گے اور نہ ہی ان کو (گناہوں ) سے پاک کریں گے: وہ آدمی جو زمین پر کھڑے زائد پانی کو مسافر سے روک لے۔ وہ آدمی جو عصر کے بعد فروخت کرتا ہے اورا س پر اللہ کی قسم اُٹھاتا ہے کہ اس نے خود اتنی اتنی قیمت میں خریدا ہے، چنانچہ خریدار اس کو سچا مان کر سودا خرید لیتا ہے،حالانکہ وہ جھوٹا ہوتاہے۔ اور وہ آدمی جو دنیوی مقاصد کے لئے امام کی بیعت کرتا ہے۔ جو اس کا طمع ہوتا ہے، اگر وہ اسے مل جاتا ہے تو وہ وفاداری کرتا ہے اور اگر نہ ملے تو غداری کرتا ہے (یعنی بیعت توڑدیتا ہے)۔''

مسافر کو صحرا میں زائدپانی سے روکنا:ایسا کرنے والاشخص ظالم ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا ہے۔ وہ ایسا سنگدل ہے جس میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں ۔اللہ تعالیٰ بھی اس کو اس کے عمل کے مطابق ہی بدلہ دیں گے اور اس سے اپنا فضل ورحمت روک لیں گے جس کا وہ روزِ محشرسب سے زیادہ محتاج ہو گا۔

دنیوی مقاصد کی خاطر امام کی بیعت کرنا:اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص بیعت کرنے کے بعد اپنی وفاداری کو حکمران کی طرف سے ملنے والے اِنعام واکرام کے ساتھ معلق کر دیتا ہے اور بیعت کے اصل مقصد کو چھوڑ دیتا ہے ۔حالانکہ بیعت کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ امام کی بات کو سنا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے،اس کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کیا جائے،اُمورِ سلطنت میں اس کی مدد کی جائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام دیا جائے۔جبکہ وہ مفاد پرستی پر مبنی بیعت کے ذریعے حکمران اور اُمت ِمسلمہ سے خیانت کا مرتکب ہوتا ہے جس وجہ سے اس کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے اس گناہ کو معاف نہ کیا تو وہ مذکورہ وعید کا شکار ہو جائے گا۔

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان جو بھی کام سر انجام دیتا ہے، اس میں اللہ کی رضا ہی اس کے پیش نظرہونی چاہیے۔اگر اس میں دنیوی مقاصد کا حصول مقصود بن جائے تو وہ کام بھی ناقابل قبول اور انسان اللہ کے ہاں مجرم بن جاتا ہے۔

الشیخ الزاني (بوڑھا زانی)
الملک الکذاب (جھوٹا بادشاہ)
العائل المتکبر (غریب متکبر)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ثلاثة لا یکلمھم اﷲ یوم القیامة ولا یزکیھم ولا ینظر إلیھم ولھم عذاب ألیم: شیخ زان وملك کذاب وعائل مُتکَبِّر) 14
''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت والے دن کلام نہیں کریں گے،نہ ہی ان کو پاک کریں اور نہ ان کی طرف دیکھیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ،اورغریب متکبر۔''

ان لوگوں کے ساتھ اس وعید کو خاص کرنے کی وجہ قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ یوں بیان فرماتے ہیں :
''اس وعید کو ان کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا ہے،کیونکہ ان لوگوں نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے جس کے ارتکاب کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں اور اس گناہ کے ارتکاب کی ان کو حاجت بھی نہیں تھی۔جب بغیر ضرورت اور مجبوری کے اس گناہ کو اختیار کیا گیا تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ان کے نزدیک اللہ کے حکم کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ بلاوجہ گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔''

خریدوفروخت میں کثرت سے قسمیں اُٹھانا
حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ثلاثة لا ینظراﷲ إلیھم یوم القیامة:أشیمط زان وعائل مستکبر ورجل جعل اﷲ بضاعة لا یشتري إلا بیمینه ولا یبیع إلا بیمینه)
''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت والے دن کلام نہیں کرے گا،نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: بوڑھا زانی،غریب متکبر،اور وہ شخص جو جب بھی خرید وفروخت کرتا ہے تو ساتھ قسم اُٹھاتا ہے۔'' 15

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أربعة یبغضھم اﷲ تعالیٰ: البیاع الحلاف والفقیر المختال والشیخ الزاني والإمام الجائر) 16
''چار شخص ایسے ہیں کہ قیامت والے دن جن سے اللہ تعالیٰ غضبناک ہوں گے: بہت زیادہ قسمیں اُٹھا کر تجارت کرنے والا غریب متکبر بوڑھا زانی اورظالم حکمران۔''

اس چیز میں کوئی شک نہیں کہ چھوٹے یا بڑے معاملے میں مناسب اور غیر مناسب موقعہ پر کثرت سے قسمیں اُٹھانا انسان کو اللہ کے عظیم نام کی حقارت کا عادی بنا دیتا ہے اور جس چیز پر قسم اُٹھائی ہے اس کی حرمت کو پامال کرنے پر جرات مند بنا دیتا ہے۔ جبکہ اسلاف کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو کثرت سے قسمیں اُٹھانے سے منع کیا کرتے تھے۔ ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''ہمارے اسلاف قسموں اور معاہدوں پر ہمیں مارا کرتے تھے۔''

اور کثرت سے قسمیں اُٹھانے والے بندے کی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی مذمت بیان فرمائی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿١٠﴾...سورة القلم
''اور تو اس شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو کثرت سے قسمیں اُٹھانے والا ہے۔''

العاق لوالدیہ (والدین کا نافرمان)
المرأة المترجلة المتشبھة بالرجال (مردوں سے مشابہت کرنے والی عورت)
الدیوث (بے غیرت)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ثلاثة لاینظر اﷲ إلیھم یوم القیامة: العاقُّ لوالدیه والمرأة المترجلة [المتشبهة بالرجال] والدیوث وثلاثة لا یدخلون الجنة: العاق لوالدیه والمدمن الخمر والمنان بما أعطی) 17
''قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کی طرف نہیں دیکھیں گے: والدین کا نافرمان، مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت،اوردیوث(بے غیرت انسان)مزید فرمایاکہ تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے: والدین کا نافرمان،ہمیشہ شراب پینے والا،اوراحسان جتلانے والا۔''

والدین کا نافرمان: اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق کو بڑی عظمت سے نوازا ہے،ان کے حقوق کو اپنے حقوق کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ان کے کفر کے باوجود ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔بہت ساری احادیث میں ان کے حقوق کو بڑی تاکید سے بیان کیا گیاہے اور ان کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أکبر الکبائر: الإشراك باﷲ وقتل النفس وعقوق الوالدین وشھادة الزور) 18
'' اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا سب سے بڑے گناہ ہیں ۔''

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا:
(رضا الرب في رضا الوالدین وسخطه في سخطھما) 19
''اللہ تعالیٰ کی رضا والدین کی رضا مندی میں ہے اور ان کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ بھی ناراض ہوجاتے ہیں ۔''

مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت:اس سے مراد ایسی عورت ہے جو لباس،طورواطوار ، معمولات اور آواز میں جان بوجھ کر مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہے۔ ایسی عورتوں کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان موجود ہے:
(لعن رسول اﷲ المُتَشَبِّھین من الرجال بالنساء والمُتَشَبِّھات من النساء بالرجال) 20
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔''

اسی طرح صحیح بخاری میں ایک اور روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی ہے:
(لعن رسول اﷲ المُخنثین من الرجال والمُتَرَجِّلات من النساء)
''رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (عورتوں کی مشابہت اختیارکرکے) عورت بننے والے مردوں پر اور (مردوں کی مشابہت اختیار کرکے) مرد بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔'' 21

اس چیز میں کوئی شک نہیں کہ کوئی عورت مرد بننے کی کوشش کرے یا مردوں کی مشابہت اختیار کرے تو وہ اصل میں فطرتِ الٰہیہ کو توڑنا چاہتی ہے اور اللہ نے اس کے لیے جو مقدر کردیا، وہ گویا اس پر اعتراض کرتی ہے۔اپنے دین کی مخالفت کرتی ہے اور معاشرتی معاملات میں خلل ڈالتی ہے ، اختلاط کا سبب بنتی ہے اور جرائم پھیلاتی ہے۔

دَیوث(بے غیرت):اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے اہل و عیال میں بے حیائی کو برداشت کرے اور عزت کے معاملے میں اس کو کوئی غیرت نہ آتی ہو۔ایسا شخص اخلاقیات سے عاری، ناقص العقل اور بے دین ہے۔اور وہ اس چیز پر رضامند ہوچکا ہے کہ اس کو خنزیر سے مشابہت دے دی جائے کہ جس کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں ۔ایسے بندے کی گواہی ناقابل قبول ہے اور وہ تعزیر کامستحق ہے تاکہ سزا کے ساتھ اس شخص کو اس قبیح فعل سے روکا جا سکے۔

لوگوں کو اپنے اہل وعیال کو ایسی چیزوں سے بچانا چاہیے جو بے حیائی اور بے غیرتی کا سبب بنتی ہیں تاکہ وہ مذکورہ وعیدوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ جیساکہ کافر ممالک کی طرف سفر کرنا اور وہاں جا کر رہنا، ڈش اور کیبل کے ذریعے دکھائے جانے والے وہ مناظرجو غلط جذبات کو اُبھارتے اور نفسانی خواہشات کو برانگیختہ کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ثلاثة لایدخلون الجنة وثلاثة لا ینظر اﷲ إلیهم یوم القیامة: فأما الثلاثة الذین لا یدخلون الجنة: فالعاق لوالدیه والدیوث والمرأة المترجلة من النساء تشبه بالرجال وأما الثلاثة الذین لا ینظر اﷲ إلیهم: فالعاق لوالدیه والمدمن الخمر والمنان بما أعطی 22
قالوا یارسول اﷲﷺ! أما مدمن الخمر فقد عرفناہ فما الدیوث؟ قال: الذي لا یبالي من دخل علی أھله۔ قیل فما الرجلة من النساء؟ قال التي تشبه بالرجال) 23

''تین آدمی جنت میں کبھی بھی داخل نہیں ہوں گے اور تین آدمیوں کی طرف اللہ نظر رحمت سے نہیں دیکھیں گے۔جو تین لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے، وہ یہ ہیں : والدین کا نافرمان، دیوث،مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتیں ۔ اور جن تین لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ دیکھیں گے نہیں ، وہ یہ ہیں : والدین کا نافرمان، ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا، اور کچھ دے کر احسان جتلانے والا۔
صحابہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شرابی کو توہم جانتے ہیں ،لیکن دیوث کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: وہ شخص جس کو یہ پرواہ ہی نہ ہو کہ اس کے گھرمیں کون داخل ہوتا ہے۔کہا گیا اور یہ عورت میں مرد بننے سے کیا مراد ہے؟فرمایا: مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتیں ۔''

الذي یأتي امراته في دُبُرھا (ہم بستری میں بیوی کی دبر استعمال کرنا)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لا ینظر اﷲ إلی رجل أتی رجلا أو امرأة في الدُّبر) 24
''قیامت کے دن اللہ اس بندے کی طرف نہیں دیکھیں گے جو کسی مرد یا عورت کے ساتھ بدفعلی کرے۔''

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ملعون من أتی امرأته في دُبرھا25
''جو شخص اپنی بیوی کی دبر سے آتا ہے، وہ ملعون ہے۔''

علامہ ابن قیم رحمة اللہ علیہ الجوزیہ فرماتے ہیں :
''بیوی کی دبر کے استعمال کو کسی نبی ؑ نے بھی مباح قرار نہیں دیا اور جو بعض لوگوں سے بیوی کی دبر میں وطی کا جواز کا تذکرہ ملتا ہے تو یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے عارضی نجاست (حیض ونفاس)کی صورت میں شرم گاہ میں جماع سے منع فرمایا ہے تو دائمی نجاست کی جگہ میں یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟اس سے انقطاعِ نسل جیسی بڑی بڑی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور انسان عورتوں کی دبر سے بچوں کے ساتھ بدفعلی کا عادی ہو جاتا ہے۔''

مذکورہ بالا سطور میں ہم نے ان آیات واحادیث کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے جس میں اللہ کی رحمت سے دوری، ان سے کلام نہ کرنے کی وعیدیں بیان ہوئی ہیں ۔ البتہ بعض احادیث میں جو ( ثلاثة لا یکلمھم اﷲ) کے حوالے سے مختلف قسم کے الفاظ آئے ہیں تو ان احادیث میں اصلاً کوئی تعارض نہیں کیونکہ ان میں ثلاثة (تین) کا کلمہ بطورِ تعداد ہے، بطورِحصر(التزام) نہیں ۔ واللہ أعلم!




حوالہ جات

1. رقم الحدیث:3179
2. صحیح بخاری:115،صحیح مسلم:4549
3. صحیح بخاری:2239
4. صحیح بخاری:2239
5. صحیح مسلم:154
6. صحیح بخاری:5342
7. صحیح بخاری:5341
8. سنن نسائی:5241، سنن ترمذی:1653
9. صحیح بخاری:1946
10. صحیح بخاری:2476،صحیح مسلم:157
11. تفسیر قرطبی:3؍308
12. مسند طیالسی:1214
13. صحیح مسلم:157
14. صحیح مسلم:156
15. معجم الکبیر از طبرانی:6؍57
16. سنن النسائی:2529
17. سنن النسائی:2515 ،مسنداحمد:2؍134
18. صحیح بخاری:6363
19. جامع ترمذی:2118 صحیح
20. صحیح بخاری:5435
21. صحیح بخاری:5436
22. معجم کبیر از طبرانی :5؍494،صحیح
23. شعب الایمان :10801
24. جامع ترمذی:1086
25. مسند احمد:2؍444، سنن ابوداؤد:2162،صحیح


Post a comment

My Instagram

Copyright © SMMPak Darussalam Ahle Hadith. Made with by Seo Basic Knowledge
close